ویلکم ٹو ”کھنڈر“کرکٹ اسٹیڈم کراچی

ssssssss

قارئین آپ یہ پڑھ کر حیران نہ ہوں، میں ’’موہن جوداڑو‘‘ دور کی کسی جگہ کا ذکر نہیں کر رہا، یہ اپنے نیشنل اسٹیڈیم کی ہی بات ہے ،حکام کی عدم توجہی نے اس کا جو حال کر دیا وہ دیکھ کر شائقین کا دل خون کے آنسو روتا ہے،آپ کے پاس وقت ہو تو ذرا قائد اعظم ٹرافی کا فائنل دیکھنے چلے جائیں،ہاں اپنا خیال ضرور رکھے گا، اسٹیڈیم کی کافی نشستیں ٹوٹی ہوئی ہیں، کہیں کہیں تو درمیان میں اتنا خلا ہے کہ آپ زمین پر پیر رکھیں تو نیچے گڑھے میں جا پھنسیں گے، ویسے بھی نائٹ میچ میںاحتیاط ضروری ہے۔

اگر آپ کی کسی سے جان پہچان ہے اور وہ کسی اچھے انکلوژر میں بٹھا دے تو بھی خوش نہ ہوں، بعض کی تو چھت کا پلاستر بھی اکھڑنے لگا ہے، اکثر میچ کے دوران گراؤنڈ میں بلی کتے بھی داخل ہو جاتے ہیں، سیوریج کی لائنیں تک ٹوٹ چکی ہیں، شکر ہے کہ جاوید میانداد اور حنیف محمد اب اسٹیڈیم نہیں آتے ورنہ ان کا دل کڑھتا کہ منسوب اسٹینڈز کس حال میں ہیں،کراچی کے حالات کا سب کو اندازہ ہے اس کے باوجود اسٹیڈیم کے اطراف میں پنکچر شاپ، جوس کا ٹھیلہ اور دیگر ناجائز تجاویزات کی بھرمار ہے۔

مگر کوئی دیکھنے والا نہیں، کچھ عرصے قبل میں نے اسٹیڈیم کی زبوں حالی پر رپورٹ دی تو بہتری کے اقدامات تو نہیں کیے گئے الٹا ایک آفیشل کیخلاف معلومات لیک کرنے کا الزام لگا کر تحقیقات شروع کردی گئی تھیں، اس سے بورڈ کے معاملات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، ان دنوں مصباح الحق، یونس خان اور محمد حفیظ سمیت کئی اسٹار کرکٹرز ایکشن میں ہیں مگر انھیں کوئی دیکھنے نہیں آ رہا، بیشتر کو تو علم ہی نہیں کہ یہاں کوئی میچ بھی ہو رہا ہے۔

ملک کے سب سے بڑے ٹورنامنٹ کی اہمیت کا یہ عالم ہے کہ کوچ فائنل کیلیے پلیئرز ریلیز کرنے پر ناراض ہو گئے، نیشنل اسٹیڈیم میں اب کوئی میڈیا کا آفیشل بھی موجود نہیں، انگلینڈ سے سیریز کے دوران تقریباً تمام آفیشلز باری باری یو اے ای گئے اور سیون اسٹار ہوٹل، رینٹ اے کار، ڈیلی الاؤنس و دیگر سہولتوں سے مستفید ہوتے رہے، کراچی میں چونکہ ایسی کوئی کشش نہیں لگی لہذا تاحال کوئی نہ آیا، میچ کیلیے میڈیا کو ایکریڈیٹیشن کارڈز تک جاری نہ کیے گئے، اب کوئی جعلی کارڈ لگا کر اندر داخل ہو جائے تو کیا ہو گا؟ یہ تو ایک ایونٹ کی بات ہے بورڈ کو کسی اور معاملے کی بھی کوئی فکر نہیں، گذشتہ دنوں پی ایس ایل کی ایک اعلیٰ شخصیت سے بات ہوئی تووہ رعونت بھرے لہجے میں کہنے لگے’’سنا ہے آپ ہمارے بارے میں بہت کچھ لکھ رہے ہیں۔

لکھتے رہیں، ٹی وی پر کوئی کچھ کہے اخبار میں کچھ بھی لکھے ہمیں کوئی پروا نہیں ہے، ہمیں جو کرنا ہے کریں گے‘‘ یہ باتیں سن کر مجھے خوف محسوس ہوا کہ اس غرور کا کہیں بہت بُرا انجام نہ ہو، حد سے زیادہ خود اعتمادی بھی انسان کو لے ڈوبتی ہے، دلچسپ بلکہ افسوسناک بات یہ ہے کہ اسی بورڈ نے بعض سابق کرکٹرز کو صرف اس لیے ملازم رکھا ہوا ہے کہ وہ اس کے بارے میں مثبت بیانات دیں اور مضامین لکھیں، یہ کوئی مذاق کی بات نہیں بلکہ تلخ حقیقت ہے کہ ایک بیان یا ٹی وی انٹرویو کے عوض انھیں 20 سے 40ہزار روپے کی ادائیگی ہوتی ہے، ان کو کوئی اور کام نہیں کرنا پڑتا، نئی گاڑیاں بھی دی گئی ہیں، بورڈ میں ایسے ہی لوگوں کی قدر ہے، شعیب اختر میڈیا میں بہت تنقید کرتے تھے ان کا جرمانہ معاف کر کے خاموش کرا دیا گیا۔

وسیم اکرم اور رمیز راجہ پی ایس ایل کے سفیر بن گئے، حق اور سچ کی بات کرنے والے عبدالقادر، جاوید میانداد اور عامر سہیل جیسے کھلاڑیوں کو کوئی لفٹ نہیں کراتا، شہریارخان سے جب چند ماہ قبل نیشنل اسٹیڈیم کی زبوں حالی کا ذکر کیا تھا تو انھوں نے خاص ردعمل نہیں دیا، اب دیکھیں کیا ہوتا ہے، یہ ٹھیک ہے کہ اسٹیڈیم میں اب انٹرنیشنل میچز نہیں ہو رہے تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ اس حال پر چھوڑدیا جائے، کبھی شادی لان بنانے کی باتیں ہوں تو کبھی کچھ اور سوچا جائے، بورڈ اب پی ایس ایل کرا رہا ہے، مستقبل میں اس کے میچز بھی یہاں ہو سکتے ہیں۔

کم از کم مرمت کے ضروری کام تو کرا لیے جائیں، پہلے بھی کئی بار کہا جا چکا کہ نیشنل اسٹیڈیم کا منیجر کسی اہل شخص کو مقرر کرنا چاہیے، اقبال قاسم بینک کی ملازمت سے ریٹائر ہو چکے انھیں لایا جا سکتا ہے، وہ پسند نہیں تو کسی اور کو اشتہاردے کر رکھ لیں، اس سے یقیناً معاملات بہتر ہوں گے،بصورت دیگر کچھ عرصے بعد اسٹیڈیم آثار قدیمہ کا منظر پیش کرنے لگے گا، بہتری یا مزید تباہی فیصلہ کرکٹ بورڈ کے ہاتھوں میں ہے۔

اب کچھ ذکر پی ایس ایل کا کر لیتے ہیں،انعقاد میں اب ماہ و سال نہیں بلکہ چند دن ہی باقی رہ گئے ہیں لیکن ایک پراسرار سی خاموشی چھائی ہوئی ہے، یو اے ای میں ہی ماسٹرزلیگ ہونے والی ہے کئی ماہ قبل اس کے تشہیری بینرز کراچی سمیت تمام بڑے شہروں میں لگ گئے، مگر پی ایس ایل کی تو قائد اعظم ٹرافی میں بھی تشہیر نہیں ہو رہی، اسے بعض فرنچائزز نے ہی زندہ رکھا ہوا ہے، میڈیا میں ایونٹ کے حوالے سے زیادہ خبریں تک نظر نہیں آتیں، پاکستانی کرکٹرز نے ماسٹرز لیگ کیلیے تشہیری پیغامات ریکارڈ کرا دیے مگر اپنے ایونٹ کیلیے کسی نے ان سے کہنے کی زحمت گوارا نہ کی، پی سی بی نے یو اے ای میں لیگ کرانے کا یہ جواز دیا کہ ’’بڑے کرکٹرز پاکستان نہیں آئیں گے‘‘ افسوس بڑے کرکٹرز یو اے ای بھی نہیں آ رہے۔

نیوزی لینڈ، انگلینڈ، بھارت اور سری لنکا کا کوئی موجودہ کھلاڑی ایونٹ میں شریک نہیں ہو گا، دیگر سپراسٹارز کی شرکت کا بھی کچھ پتا نہیں، جس حساب سے پی سی بی نے اپنا خزانہ اس ایونٹ پر لٹایا ہے انعقاد اب بہت ضروری ہو چکا،آپ صرف یہ سوچیں کہ پیسہ ہونے کے باوجود حکام بھارت سے سیریز کیلیے کس طرح بھیک مانگ رہے تھے۔

اگر خزانہ خالی ہو گیا تو کیا ہوگا؟ ویسے ہی اخراجات کم ہونے کا نام نہیں لے رہے، ڈاؤن سائزنگ کی آڑ میں ’’شہریارخان گروپ‘‘ کے لوگوں کو ایک، ایک کر کے ہٹایا گیا، مگر مراعات کا سلسلہ جاری ہے تاکہ شورنہ مچائیں، اب جنوری شروع ہو چکا بغیر کام کیے تنخواہیں وصول کرنے والے کئی آفیشلز بدستور2فائلیں بغل میں دبائے اسٹیڈیم آتے اور گپیں لڑا کر شام کو واپس چلے جاتے ہیں، اعلیٰ حکام نے ان کیلیے آنے والی سفارشوں پر گھٹنے ٹیک دیے، ڈیپوٹیشن پر دیگر محکموں سے آنے والوں کو بھی واپس نہ بھیجا گیا، اس سے صاف ظاہر ہے کہ ڈاؤن سائزنگ کا نعرہ صرف ناپسندیدہ شخصیات کو باہر کرنے کیلیے لگایا گیا باقی سب کیلیے ’’موجیں ہی موجیں‘‘ ہیں۔