کراچی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، سابق جیل سپرنٹینڈنٹ ہلاک

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں فائرنگ کے ایک واقعے میں سابق جیل سپرنٹینڈنٹ حیدرآباد اعجاز حیدر ہلاک ہوگئے ہیں۔

یہ واقعہ جمعہ کو گلستان جوہر کے علاقے پہلوان گوٹھ میں 12 بجے کے قریب پیش آیا ہے۔

ایس ایس پی پیر محمد شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم شخص نے اعجاز حیدر پر فائرنگ کی جس میں وہ ہلاک ہوگئے۔

انھوں نے بتایا کہ سرکاری نمبر والی گاڑی میں تین خواتین بھی سوار تھیں، جو اعجاز حیدر کی رشتے دار نہیں، ان میں سے ایک کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔

اعجاز حیدر حیدرآباد سینٹرل جیل کے پہلے ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ اور بعد میں سپرنٹینڈنٹ رہے۔ چند ماہ قبل قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایک افسر سے تلخ کلامی کے بعد ان کا تبادلہ کردیا گیا تھا اور ان دنوں وہ پوسٹنگ کے انتظار میں تھے۔

ایس ایس پی پیر محمد شاہ کے مطابق مقتول اعجاز حیدر گلستان جوہر سیکٹر 11 میں اکیلے رہتے تھے۔ ان کے مطابق واقعہ بظاہر ذاتی دشمنی کا نظر آتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صحافی ڈینیئل پرل کیس میں سزا یافتہ شیخ عمر کو جب مقدمے کی سماعت سے قبل سینٹرل جیل حیدرآباد منتقل کیا گیا تھا تو اعجاز حیدر ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ تھے۔

دو ماہ قبل شیخ عمر کے ساتھی قاری ہاشم کی عدالت کے حکم پر رہائی ہوئی تھی جس کے بعد وہ لاپتہ تھے۔

قاری ہاشم کے بھائی نے عدالت میں ایک درخواست دائر کی تھی، جس میں اس وقت کے جیل سپرنٹینڈنٹ اعجاز حیدر کو بھی فریق بنایا گیا تھا۔